Thursday, 25 March 2021

سانس بہاریں آنکھ اجالے تیرے ہیں

 سانس بہاریں آنکھ اجالے تیرے ہیں

میرے لہو میں سارے حوالے تیرے ہیں

زخم ہیں میرے اپنے، مرہم تیرا ہے

ٹھوکر، آس، سنبھالے تیرے ہیں

کشتی تیری، دریا، طوفاں تیرا ہے

طوفانوں سے لڑنے والے تیرے ہیں

پھول میں رنگ اور رنگ میں خوشبو تیری ہے

شاخِ صبا پر ریشم ہالے تیرے ہیں

میرا ہاتھ پکڑ، میں تیرا بندہ ہوں

دنیا والے، دیکھے بھالے تیرے ہیں


اشرف جاوید

No comments:

Post a Comment