تمہارے عشق والے مسئلے کا حل نکالیں گے
اگر نہ آج نکلا، یار! ہم یہ کل نکالیں گے
تم اپنے بال لہرا کر ذرا جھٹکو پلٹ کر پھر
پھر اپنی انگلیوں سے ہم خمِ کاکُل نکالیں گے
سراپا حُسن ہے لیکن اسے بتلا دو محفل میں
وہ گر شیشہ نکالے گا تو ہم بھی دل نکالیں گے
محبت بھیک ہوتی ہے نہ یہ احسان کی صورت
بڑی سفّاک ہے اس کو درِِ مقتل نکالیں گے
سمندر کو پتا ہے رُخ ہوا کا ہم بدلتے ہیں
بھنور ہم ساتھ رکھتے ہیں لبِ ساحل نکالیں گے
فقیہِ شہر کے مدِ مقابل آ گئے ہیں ہم
وہ سُورج کو چھپا لیں گے تو ہم مشعل نکالیں گے
وہ جاں مانگے تو دے دوں گا فقط اک شرط پر حامد
یہ حُسنِ یار کا صدقہ سرِ محفل نکالیں گے
حامد رضا خاں بریلوی
No comments:
Post a Comment