تِری یادوں کا میلا رہ گیا ہے
وہی دل کا جھمیلا رہ گیا ہے
پلٹ کر جا چکی ہیں ساری لہریں
سمندر بھی اکیلا رہ گیا ہے
نہ اب ونجلی نہ ہے چُوری کا چھنّا
بہت سنسان بیلا رہ گیا ہے
وہ محنت کش نہ جانے اب کہاں ہے
سڑک پر خالی ٹھیلا رہ گیا ہے
یہی حسرت ہے تیرے ساتھ مل کر
کبھی جو کھیل کھیلا، رہ گیا ہے
جسے قسمت نے چاہا سرخرو ہے
جسے غم نے دھکیلا رہ گیا ہے
خزاں نے رنگ اظہر نوچ ڈالے
فقط خُوشبو کا ریلا رہ گیا ہے
اظہر جاوید
No comments:
Post a Comment