Thursday, 25 March 2021

وہ سنگلاخ زمینوں میں شعر کہتا تھا

 وہ سنگلاخ زمینوں میں شعر کہتا تھا

عجیب شخص تھا کھِلتا گُلاب جیسا تھا

سُلگتے جسم پہ میرے گُلوں کا سایہ تھا

تِرے وجود کا وہ لمس کتنا مہکا تھا

جو آشنا تھے بہت اجنبی سے لگتے تھے

وہ اجنبی تھا، مگر آشنا سا لگتا تھا

پرند شام ڈھلے گھونسلوں کی سمت چلے

چراغ جلتے ہی اس کو بھی لوٹ آنا تھا

اسی درخت کو موسم نے بے لباس کیا

میں جس کے سائے میں تھک کر اداس بیٹھا تھا

ہمارے گرد وہی آہنی سلاخیں ہیں

سیاہ رات کا کٹنا تو ایک دھوکا تھا

چراغ دونوں کناروں کے بُجھ گئے ساغر

ہماری راہ میں حائل لہر کا دریا تھا


امتیاز ساغر

No comments:

Post a Comment