Thursday, 25 March 2021

کوئی آواز دیتا ہے حریر و‌‌ پرنیاں جیسی صداؤں میں

 کوئی آواز دیتا ہے


کوئی آواز دیتا ہے

حریر و‌‌ پرنیاں جیسی صداؤں میں

کوئی مُجھ کو بُلاتا ہے

کچھ ایسا لمس ہے آواز کا جیسے

اچانک فاختہ کے ڈھیر سے کومل پروں پر ہاتھ پڑ جائے

اور ان میں ڈُوبتا جائے

بہت ہی دُور سے آتی صدا ہے

میں لفظوں کے معانی کی گواہی دے نہیں سکتی

مگر لفظوں میں گھُنگرُو بندھے ہیں

حریمِ جان میں ان کے پاؤں دھرتے ہی

کئی بے چین پازیبیں دھڑکتی ہیں

لہو میں ایک دِیوالی سی سجتی ہے

کوئی آواز دیتا ہے

حریر و پرنیاں جیسی صداؤں میں

کوئی مُجھ کو بُلاتا ہے


منصورہ احمد

No comments:

Post a Comment