ہم نہیں جانتے
مار دینے کے لیے
کافی ہے
محبت کے وفور سے لبریز لہجہ
یا تشنگی آمیز خواہش سے لرزتی آواز
کانپتے لمس سے آمیز قربت
یا حدوں کے پار اتر جانے کی آرزو
میں
جو وجود کی سرحد
پار نہیں کر سکتی
اور تم
جو عدم کے اس پار
کھڑے مسکرا رہے ہو
نہیں جانتے
کہ تم کس طرح مار دئیے گئے
اور میں
کیسے مار دی جاؤں گی
عارفہ شہزاد
No comments:
Post a Comment