Thursday, 25 March 2021

کوئی آغاز ایسا ہو نہ کچھ انجام کا ڈر ہو

 کوئی آغاز ایسا ہو نہ کچھ انجام کا ڈر ہو

محبت صبح جیسی ہو نہ جس میں شام کا ڈر ہو

اٹھے جو تیری جانب پھر انہیں منزل سے کیا لینا

صنم کی چاہ میں بڑھتے ہوئے ہر گام کا ڈر ہو

تِرے ہی نام سے پہچان چاہی تھی زمانے میں

چلو بدنام ہی سمجھو ہمیں کیا نام کا ڈر ہو

مِری جاں بے رخی اچھی نہیں جاں پر نہ بن آئے

تجھے بھی تجھ سے بہتر پھر کسی گلفام کا ڈر ہو

ارے دل مفت لے جاؤ یہ کوہِ نور تھوڑی ہے

کوئی پتھر تراشا ہے کہ ہم کو دام کا ڈر ہو

جو اتنے خاص لوگوں میں اکڑ سے گھومتے ہو تم

کبھی جو ہم ملے تم سے تو تم کو عام کا ڈر ہو

ذرا اک بار آنکھوں میں جو دیکھو گے تو جانو گے

قیامت سا جو ساقی ہو بھلا کیوں جام کا ڈر ہو


ہما علی

No comments:

Post a Comment