کوئی آغاز ایسا ہو نہ کچھ انجام کا ڈر ہو
محبت صبح جیسی ہو نہ جس میں شام کا ڈر ہو
اٹھے جو تیری جانب پھر انہیں منزل سے کیا لینا
صنم کی چاہ میں بڑھتے ہوئے ہر گام کا ڈر ہو
تِرے ہی نام سے پہچان چاہی تھی زمانے میں
چلو بدنام ہی سمجھو ہمیں کیا نام کا ڈر ہو
مِری جاں بے رخی اچھی نہیں جاں پر نہ بن آئے
تجھے بھی تجھ سے بہتر پھر کسی گلفام کا ڈر ہو
ارے دل مفت لے جاؤ یہ کوہِ نور تھوڑی ہے
کوئی پتھر تراشا ہے کہ ہم کو دام کا ڈر ہو
جو اتنے خاص لوگوں میں اکڑ سے گھومتے ہو تم
کبھی جو ہم ملے تم سے تو تم کو عام کا ڈر ہو
ذرا اک بار آنکھوں میں جو دیکھو گے تو جانو گے
قیامت سا جو ساقی ہو بھلا کیوں جام کا ڈر ہو
ہما علی
No comments:
Post a Comment