Thursday, 25 March 2021

ہے وہی دنیا وہی ہم ہیں مگر تیرے بغیر

 ہے وہی دنیا، وہی ہم ہیں، مگر تیرے بغیر

سُونے سُونے سے ہیں یہ شام و سحر تیرے بغیر

راس کیا آئے گی؟ کوئی رہ گزر تیرے بغیر

کیسے طے ہو گا یہ غُربت کا سفر تیرے بغیر

روشنی تھی جن چراغوں سے وہ سارے بُجھ گئے

ماتمی ہیں آج سب دیوار و در تیرے بغیر

رُو بہ رُو اک ڈھیر ہے مٹی کا باقی کچھ نہیں

اب نہ گھروالے سلامت ہیں، نہ گھر تیرے بغیر

کھو گئیں وہ صُورتیں سب جانی پہچانی ہوئی

کس کو دیکھوں اور کیا آئے نظر تیرے بغیر

رہ گیا ہوں پھڑپھڑا کر زندگی کے جال میں

ایک پنچھی کی طرح بے بال و پر تیرے بغیر

چھوڑ کر اس حال میں او جانے والے دیکھ تو

بوجھ کتنا ہے دلِ آفاق پر تیرے بغیر 


آفاق صدیقی

No comments:

Post a Comment