دل میں جو خلا تھا بھر گیا کیا؟
سیلابِ جنوں اُتر گیا کیا؟
آنکھوں میں خواب جل رہے ہیں
بارش کا سمے گُزر گیا کیا؟
شہروں میں رتجگے بہت ہیں
ذہنوں کا سکوں بکھر گیا کیا؟
آرام کی نیند سونے والو
اندیشۂ ہمسفر گیا کیا؟
ہمسائے میں بھُوک جاگتی ہے
میرا بھی ضمیر مر گیا کیا؟
جلیس نجیب آبادی
اسلام الدین
No comments:
Post a Comment