Saturday, 6 February 2021

الجھی ہوئی سوچوں کی گرہیں کھولتے رہنا

 الجھی ہوئی سوچوں کی گرہیں کھولتے رہنا

اچھا ہے مگر ان میں لہو گھولتے رہنا

دن بھر کسی منظر کے تعاقب میں بھٹکنا

اور شام کو لفظوں کے نگیں رولتے رہنا

میں لمحہ محفوظ نہیں رک نہ سکوں گا

اڑنا ہے مِرے سنگ تو پَر تولتے رہنا

خاموش بھی رہنے سے جنازے نہیں رکتے

جینے کے لیے ہم نفسو! بولتے رہنا

اچھا نہیں، آغازِ مسافت ہی میں ناصر

کشتی کا سرِ آبِ رواں ڈولتے رہنا


حسن ناصر

No comments:

Post a Comment