تجھ سے بھی عاشقی نہیں ہوتی
مجھ سے بھی دل لگی نہیں ہوتی
یار یہ عشق تو عبادت ہے
ہم سے تو بندگی نہیں ہوتی
میں نے بانٹی ہے روشنائی پر
میرے گھر روشنی نہیں ہوتی
تیر لفظوں کے کوئی سمجھے نہ
اتنی بھی سادگی نہیں ہوتی
لوگ مغرور مجھ کو کہتے ہیں
مجھ سے جو چاکری نہیں ہوتی
ساتھ یہ سانسیں چھوڑ جاتی ہیں
بے وفا زندگی نہیں ہوتی
جو تخیل چرا کے کی جائے
وہ کبھی شاعری نہیں ہوتی
جس کو جانا ہے سو خدا حافظ
مجھ سے بھی عاجزی نہیں ہوتی
رمل اقبال
No comments:
Post a Comment