Saturday, 6 February 2021

تجھ سے بھی عاشقی نہیں ہوتی

 تجھ سے بھی عاشقی نہیں ہوتی

مجھ سے بھی دل لگی نہیں ہوتی

یار یہ عشق تو عبادت ہے

ہم سے تو بندگی نہیں ہوتی

میں نے بانٹی ہے روشنائی پر

میرے گھر روشنی نہیں ہوتی

تیر لفظوں کے کوئی سمجھے نہ

اتنی بھی سادگی نہیں ہوتی

لوگ مغرور مجھ کو کہتے ہیں 

مجھ سے جو چاکری نہیں ہوتی

ساتھ یہ سانسیں چھوڑ جاتی ہیں 

بے وفا زندگی نہیں ہوتی

جو تخیل چرا کے کی جائے

وہ کبھی شاعری نہیں ہوتی

جس کو جانا ہے سو خدا حافظ

مجھ سے بھی عاجزی نہیں ہوتی


رمل اقبال

No comments:

Post a Comment