Monday, 8 February 2021

علی افتخار پانیوں کا شناور ہے

 اے بے گُنہی گواہ رہنا


علی افتخار پانیوں کا شناور ہے

دو اور کبھی دو سے زیادہ کشتیوں میں پاؤں جمائے

کھلنڈرے لڑکوں کی طرح شرارت سے ہنستا

رُوداں کے مجسمے کی طرح سیدھا کھڑا

اپنے ترشے ہوئے رگ پٹھوں کو سورج کے مقابل کیے

غدار پانیوں پہ سہولت سے پھسلتا چلا جاتا ہے

تمباکو سے سیاہ ہوتے اس کے لبوں کا کوئی گوشہ نہیں پھڑکتا

ساحل پر کھڑے ہونے والے دیکھ سکتے ہیں

دو کشتیوں کے سوار کے سرین معلق ہوتے ہیں

اس کے رازوں سے کھیلنے والی ہوا دستِ صبا جیسی مہرباں نہیں

مگر وہ ڈیک پر پھسلتے پستول کو

بے نیازی سے ایک طرف ہٹاتے ہوئے

ایس ایم ایس لکھتا ہے

زندگی مختصر ہے”

اصول اور ضابطے شکستہ کواڑ ہیں

معاف کرنا سیکھ لو

محبت تہہ دار ہے

تتلی کے رقصاں پر منزلوں کا نشاں ہیں

ایسے ہنسو جیسے کنواری کے پیٹ سے قلقلِ مے سنائی دیتی ہے

“ایسے گاؤ جیسے قیدی چھوڑے ہوئے گلی کوچوں کو یاد کرتے ہیں

اپالو کا ہمزاد نہیں جانتا

پارسائی کا بدصورت چوپایہ

دانت نکوسے

لمبی خوں آشام زبان نکالے

میرے تعاقب میں ہے

اس نے مِری بُو پا لی ہے

میں پارسائی کو کُتا نہیں سمجھتا

سب کُتے پاگل نہیں ہوتے

پارسائی ایک نجس مخلوق ہے

یہ دلوں کی کیاریاں روند دیتی ہے

خواب کے ہرے قطعات کھوند ڈالتی ہے

کنواریوں کی کوکھ میں کیکٹس اُگتے ہیں

بوڑھی آنکھوں میں تلخی کی تللی بندھ جاتی ہے

محبت کے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں

سبزۂ خط ببُول کی شاخ بن جاتا ہے

پریم نگر کی کھڑکیاں شہرِ پناہ

اور کتابیں آتش زدنی قرار پاتی ہیں

پارسائی ایک تعفن چھوڑتی گھونس تھی

جو کونوں کھُدروں میں چھُپ کر رہتی تھی

شہر نے یہ آفت کب سوچی تھی

صورِِ اسرافیل کسی نے نہیں سنا

مگر پارسائی کا عجیب الخلقت جانور

ہر جبۂ بے شِکن اور مُنافق لبادے سے یوں برآمد ہوا

ہر بلند آہنگ حلقُوم سے یوں اٗچھل کر نکلا

کہ شہر کے کُوچے بوش کا جہنم بن گئے

اپنی جلاوطنی بے لباس ہو گئی

میرے پاس بندوق نہیں ہے

آگ اُگلنا میں نے کبھی سیکھا نہیں

ایک کشتی کبھی میری ملک نہیں تھی

گِری پڑی ٹہنیوں اور سُوکھے پتوں سے

میں نے یہ ڈونگھی بنائی ہے

جو ہر لہر کے ساتھ بُری طرح ڈولتی ہے

گدلا پانی رِس رِس کر اندر آ رہا ہے

پارسائی کا گرسنہ چوپایہ

ساحل پہ بے چینی سے

میرے استخواں کا منتظر ہے

اپالو کے ہمزاد

دو کشتیوں کے سوار

مجھے پانیوں کی آغوش ہی میں ڈوبنے دینا

اور میرے ریاکار دوستوں کو بتا دینا

میری رِندی اور شہوت کے قصے غلط یا صحیح

میں پارسائی کی پِچھل پیری سے بغلگیر نہیں ہوا


علی افتخار جعفری

No comments:

Post a Comment