نشیلی سرد راتوں میں صنم جب پاس ہوتا ہے
گزرتے وقت کا پھر کب کسے احساس ہوتا ہے
تِری بانہوں کے حلقے میں مجھے کب ہوش رہتا ہے
محبت کا حسین جذبہ بہت حساس ہوتا ہے
مِری بانہیں ترستی ہیں ملن کی اس گھڑی کو جب
تو پھر تیرے نہ ہونے کا بہت اِحساس ہوتا ہے
میں جب سوچوں میں گم ہو کر چلا جاتا ہوں ماضی میں
مقابل پھر نگاہوں کے مقامِ خاص ہوتا ہے
یہ کیسا موڑ آ یا ہے جہاں اس نے کہا مجھ کو
مجھے تیری محبت سے بھرا دکھ راس ہوتا ہے
ابھی تیرے پیالے میں یہ اک دو گھونٹ باقی ہیں
ٹھہر جا، ہم پلاتے تجھے کیوں یاس ہوتا ہے
وفا کے ہر محلے میں وفاداروں کے ڈیرے میں
وفاؤں پر جو دے پہرہ وفا کا داس ہوتا ہے
ہے اپنی کٹ رہی کیسے کبھی جانو تو بتلائیں
مگر میں کیا کہوں تجھ کو کہاں احساس ہوتا ہے
No comments:
Post a Comment