پانی سمجھ کے جس کا کیا انتخاب تھا
دریا نہیں تھا وہ تو مکمل سراب تھا
دینا نہیں تھا مجھ کو سو خاموش ہی رہا
ورنہ ہر اک سوال کا فر فر جواب تھا
دیکھو نا ہو گئی ہے محبت کہا نہ تھا
تم نے تو لاکھ اس سے کیا اجتناب تھا
جس نے بنا کے بند بچایا تھا شہر کو
خود اس کا گاؤں بھی تو کہیں زیر آب تھا
مجھ کو بنا کے ٹوٹی سی کشتی بھی دی گئی
قسمت میں میری لکھا ہوا سییلِ آب تھا
کہتے ہیں شہر سارا ہی اس کا عزیز ہے
پہلے جو شخص مجھ کو ہی بس دستیاب تھا
وہ مل گیا ہے گویا سکوں مل گیا مجھے
دل میں عجیب میرے عجب اضطراب تھا
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment