Saturday, 15 January 2022

پانی سمجھ کے جس کا کیا انتخاب تھا

 پانی سمجھ کے جس کا کیا انتخاب تھا 

دریا نہیں تھا وہ تو مکمل سراب تھا 

دینا نہیں تھا مجھ کو سو خاموش ہی رہا 

ورنہ ہر اک سوال کا فر فر جواب تھا 

دیکھو نا ہو گئی ہے محبت کہا نہ تھا 

تم نے تو لاکھ اس سے کیا اجتناب تھا 

جس نے بنا کے بند بچایا تھا شہر کو 

خود اس کا گاؤں بھی تو کہیں زیر آب تھا 

مجھ کو بنا کے ٹوٹی سی کشتی بھی دی گئی 

قسمت میں میری لکھا ہوا سییلِ آب تھا 

کہتے ہیں شہر سارا ہی اس کا عزیز ہے 

پہلے جو شخص مجھ کو ہی بس دستیاب تھا 

وہ مل گیا ہے گویا سکوں مل گیا مجھے 

دل میں عجیب میرے عجب اضطراب تھا 


عجیب ساجد‎‎

No comments:

Post a Comment