Saturday, 15 January 2022

بہت مشکل سفر ہے پر اسے آسان کر لیں گے

 بہت مشکل سفر ہے پر اسے آسان کر لیں گے

ہنر سے اپنے قابو ہم ہر اک طوفان کر لیں گے

بڑی مدت سے خالی ہے مکانِ دل ہمارا بھی

کوئی تم سا ملے تو ہم اسے مہمان کر لیں گے

تمہارے فائدے کے واسطے بزمِ محبت میں

جہاں تک ہو سکے گا خود کا ہم نقصان کر لیں گے

میری خوش بختیاں جس دن بھی چاہے گی مسرت سے

کتاب زندگی کا ہم تمہیں عنوان کر لیں گے

اسد! گر راس نہ آیا ہمیں شہرِ محبت تو

پسند اپنے لیے ہم لوگ قبرستان کر لیں گے


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment