بہت مشکل سفر ہے پر اسے آسان کر لیں گے
ہنر سے اپنے قابو ہم ہر اک طوفان کر لیں گے
بڑی مدت سے خالی ہے مکانِ دل ہمارا بھی
کوئی تم سا ملے تو ہم اسے مہمان کر لیں گے
تمہارے فائدے کے واسطے بزمِ محبت میں
جہاں تک ہو سکے گا خود کا ہم نقصان کر لیں گے
میری خوش بختیاں جس دن بھی چاہے گی مسرت سے
کتاب زندگی کا ہم تمہیں عنوان کر لیں گے
اسد! گر راس نہ آیا ہمیں شہرِ محبت تو
پسند اپنے لیے ہم لوگ قبرستان کر لیں گے
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment