Saturday, 15 January 2022

سناٹا چیخ اٹھتا ہے

 سناٹا چیخ اٹھتا ہے


ہوا لال اینٹوں کی گلیوں سے گزرتی

سیلن زدہ کوٹھریوں میں بچے جنتی ہے

گھٹی گھٹی سانسیں لیتی ہوئی

جب باہر نکلتی ہے

تو ٹھنڈ سے کبڑی ہو چکی ہوتی ہے

سیدھا چلنے کی خواہش میں

اونچے نیچے رستوں پر

گھوڑوں کے سموں تلے

کیچڑ میں لت پت سر پٹختی

اٹھنے کی کوشش کرتی ہے

اور رینگتے رینگتے کسی حویلی میں جا گھستی ہے

جہاں رات کا سناٹا بین کر رہا ہوتا ہے

قدموں کی مانوس سی چاپوں سے

حویلی کے سناٹوں میں

گونج کی دراڑیں پڑنے لگتی ہیں

ہوا کسے ڈھونڈھتی ہے

وہ جانتی ہے کہ پساروں میں اجداد کے فن کا لوہا

صندوقوں میں بھرا پڑا ہے

پرکھوں کے افکار

شیلفوں پر قرینے سے سجے ہیں

ایک بڑے کمرے میں گول میز پر

کروشیے سے کاڑھے ہوئے رومال میں

اس نے اپنی آنکھیں بھی کاڑھ دی ہیں

وہ روتی ہوئی

رومال میں کاڑھی ہوئی آنکھوں کو چومتی ہے

اور حویلی کے در و دیوار سے لپٹی ہوئی

آخری نشانی تلاش کر رہی ہوتی ہے

کہ سناٹا چیخ اٹھتا ہے


عالیہ مرزا

No comments:

Post a Comment