Thursday, 3 February 2022

جی اگر سکتے نہیں ساتھ تو مر سکتے ہیں

 جی اگر سکتے نہیں، ساتھ تو مر سکتے ہیں

ہم محبت میں یہ اک کام تو کر سکتے ہیں

عشق میں قید کا قائل تو نہیں ہوں میں بھی

آپ چاہیں تو محبت سے مُکر سکتے ہیں

شوق سے آؤغمو! جب تک کہ ٹھکانہ نہ ملے

تب تلک آپ مِرے گھر میں ٹہر سکتے ہیں

یہ بھی ممکن ہے تِرے بعد وہ ایسے نہ رہیں

رو بھی سکتے ہیں تِرے بعد سنور سکتے ہیں

اتنا آساں نہ سمجھ اُس کا بچھڑنا تُو بھی

آنکھ رو سکتی ہے، تِرے بال بکھر سکتے ہیں

تڑپ اُٹھتے ہیں فقط نام ہی سُن کر اُس کا

ہم بھی اب پیار میں ہر حد سے گزر سکتے ہیں

دنیا والوں کی نہ اک بات سمجھ میں آئی

لوگ کیا کر کے محبت بھی مُکر سکتے ہیں

ڈوبتی ناؤ میں نام اُس کا جو پکارا جائے

ہم بھی ساحل پہ مِرے دوست اُتر سکتے ہیں

یہ محبت میں جو اُلجھے ہوئے ہیں لوگ سبھی

وہ اگر ساتھ میں رکھ لیں تو سُدھر سکتے ہیں


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment