Thursday, 3 February 2022

کھول دے اسے بیٹا مجھ پہ بند نہ کر یہ در

 دق الباب


کھول دے اسے بیٹا

مجھ پہ بند نہ کر یہ در بیٹا

میں نے برسوں تجھے سنبھالا ہے

جانے کتنے دُکھوں سے پالا ہے

تیرے دم سے مِرا اُجالا ہے

تُو نے گھر سے مجھے نکالا ہے

میں تو ماں ہوں نہ بددعا دوں گی

تجھ کو جینے کی بس دعا دوں گی


نیلما تصور

No comments:

Post a Comment