Thursday, 3 February 2022

وہ کیسے کرتے ہیں رد و بدل سمجھتے ہیں

 وہ کیسے کرتے ہیں رد و بدل سمجھتے ہیں

خدا کا شکر ہے، رنگِ غزل سمجھتے ہیں

میں جو بھی مشورہ دیتا ہوں اپنے یاروں کو

مصیبتوں کا وہ اس کو ہی حل سمجھتے ہیں

نہ جانے کیوں میری خودداریوں کو کچھ احباب

کسی جلی ہوئی رسی کا دل💓 سمجھتے ہیں

وہ اتنی دیر سے سمجھا رہیں ہیں کیا سب کو

اے دوست! تجھ کو ہو فُرصت تو چل سمجھتے ہیں

تمہارے قُرب کی لذت اٹھانے والے لوگ

اسد کی طرح ہی صدیوں کو پل سمجھتے ہیں


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment