یہ زندگی بھی عجب ہے میاں خود اپنے لیے
ہزار بار بھی جینے کی گر کریں کوشش
ہزار بار کی کوشش فضول جاتی ہے
یہ میرے مسئلے یعنی کہ کام کاج سبھی
خبر نہیں ہے کہ صبح کس طرف کو جانا ہو
کہاں پہ شام ہو یہ بھی خبر نہیں ہوتی
سڑک پہ گاڑیوں اور ہارنوں کی آوازیں
اگرچہ روز کا معمول ہیں مگر پھر بھی
مِرے دماغ پر اس درجہ حاوی ہوتی ہیں
بدن پہ طاری تھکن کا مہیب سنّاٹا
پلک جھپکتے ہی دھویں میں ڈھلنے لگتا ہے
سکون، شور، تھکاوٹ کی کشمکش میں مجھے
یقین کر لو میاں! نیند ہی نہیں آتی
راشد ملک
No comments:
Post a Comment