Thursday, 3 February 2022

یہ زندگی بھی عجب ہے میاں خود اپنے لیے

 یہ زندگی بھی عجب ہے میاں خود اپنے لیے

ہزار بار بھی جینے کی گر کریں کوشش

ہزار بار کی کوشش فضول جاتی ہے

یہ میرے مسئلے یعنی کہ کام کاج سبھی

خبر نہیں ہے کہ صبح کس طرف کو جانا ہو

کہاں پہ شام ہو یہ بھی خبر نہیں ہوتی

سڑک پہ گاڑیوں اور ہارنوں کی آوازیں

اگرچہ روز کا معمول ہیں مگر پھر بھی

مِرے دماغ پر اس درجہ حاوی ہوتی ہیں

بدن پہ طاری تھکن کا مہیب سنّاٹا

پلک جھپکتے ہی دھویں میں ڈھلنے لگتا ہے

سکون، شور، تھکاوٹ کی کشمکش میں مجھے

یقین کر لو میاں! نیند ہی نہیں آتی


راشد ملک

No comments:

Post a Comment