Thursday, 3 February 2022

مجھ کو شام ہجر کی یہ جلوہ آرائی بہت

 مجھ کو شام ہجر کی یہ جلوہ آرائی بہت

مہکی مہکی یاد تیری اور تنہائی بہت

عمر بھر ڈرتا رہا کم ظرفیٔ احساس سے

ان کے پہلو میں بھی میری روح گھبرائی بہت

ڈوب کر ان جھیل سی آنکھوں میں جب غزلیں کہیں

میرے ان شعروں میں تب آئی ہے گہرائی بہت

ہم ہی کیوں تیری محبت میں تماشا بن گئے

اس حیات رنگ و بو میں تھے تماشائی بہت

رفتہ رفتہ اس گلی میں بے جھجک جانے لگا

پہلے پہلے تو مجھے تھا خوفِ رُسوائی بہت

وہ کھنکتے گنگناتے جھومتے گاتے بدن

عہد پیری میں جوانی ہم کو یاد آئی بہت

دہکی دہکی آگ سی آنچل میں تھی شاید شہاب

پاس سے وہ شوخ جب گزرا تو آنچ آئی بہت


شہاب اشرف

No comments:

Post a Comment