مجھے پتہ نہیں جانے کہاں سے آئے گی
مِری گواہی مگر آسماں سے آئے گی
کسی کی یاد بسیرا کئے ہوئے ہے یہاں
صدا ابھی اِسی خالی مکاں سے آئے گی
میں واقعات کو ترتیب دے رہا ہوں ابھی
نئی کہانی، مِری داستاں سے آئے گی
اِس انتظار میں تازہ غزل سناتا ہوں
کبھی تو داد صفِ دشمناں سے آئے گی
یہی امید مجھے ٹوٹنے نہیں دیتی
ابھی خبر کوئی اچھی وہاں سے آئے گی
ستارے اس لیے تحلیل ہو گئے مجھ میں
کہ روشنی تو مِرے جسم و جاں سے آئے گی
سخن کا آخری دَر مجھ پہ ہو رہا ہے ظہور
مِری غزل کسی تازہ جہاں سے آئے گی
ظہور چوہان
No comments:
Post a Comment