رہِ وفا میں بس اک دن قدم اٹھایا تھا
پھر اس کے بعد کہیں دھوپ تھی نہ سایا تھا
جہاں نے ایک معمہ بنا دیا، ورنہ
مِرے خدا نے مجھے آدمی بنایا تھا
مگر یہ کیا کہ خود اپنا ہی منہ چھپانے لگا
وہ شخص جس نے مجھے آئینہ دکھایا تھا
ردائے خاک میں لپٹا تو جا کے خشک ہوا
یہ جسم دیر تلک دھوپ میں نہایا تھا
غروبِ مہر نے اس کو مٹا دیا خالد
جو نقش دھوپ نے دیوار پر بنایا تھا
عبداللہ خالد
No comments:
Post a Comment