تُو مِرا درد جب بڑھاتا ہے
جانے کیوں دل سکون پاتا ہے
عشق میں ہر اثاثہ لٹ جائے
تب کہیں جا کے ہوش آتا ہے
وہ یقین و گماں میں رہتا ہے
روز قصہ نیا سناتا ہے
زخم شاید وہ بھر گیا پہلا
دل تجھے رات دن بلاتا ہے
جانے کیا سلسلہ ہوا ہے حرا
آئے جب وہ تو ہوش جاتا ہے
حرا رانا
No comments:
Post a Comment