Thursday, 3 February 2022

کوئی شیشہ نہ در سلامت ہے

 کوئی شیشہ نہ در سلامت ہے

گھر مِرا دشت کی امانت ہے

سارے جذبوں کے باندھ ٹوٹ گئے

اس نے بس یہ کہا؛ اجازت ہے

جان کر فاصلے سے ملنا بھی

آشنائی کی اک علامت ہے

اس سے ہر رسم و راہ توڑ تو دی

دل کو لیکن بہت ندامت ہے

روبرو اس کے ایک شب جو ہوئے

ہم نے جانا کہ کیا عنایت ہے

دو قدم ساتھ چل کے جان لیا

کیا سفر اور کیا مسافت ہے

کل سیاست میں بھی محبت تھی

اب محبت میں بھی سیاست ہے

رات پلکوں پہ دل دھڑکتا تھا

تیرا وعدہ بھی کیا قیامت ہے


خواجہ ساجد

No comments:

Post a Comment