مقدر میں جو لکھے جا چکے تھے
وہ سارے غم مجھے سمجھا چکےتھے
تِری محفل میں جب پہنچے ستمگر
وہاں تو غم بھی بانٹے جا چکے تھے
تِری آنکھیں بلا کی فتنہ گر ہیں
تجھے پہلے بھی یہ بتلا چکے تھے
تمہیں پہچاننے سے قبل یارو
تمہاری اصلیت ہم پا چکے تھے
بنی ہے موت اب یونہی تماشا
مجھے یہ غم تو پہلے کھا چکے تھے
نظر میں کچھ بھی ہوتا تو بتاتے
مگر تم دل سے کب کے جا چکے تھے
تمہارے بِن بہت مشکل ہے رہنا
تمہیں یہ بارہا بتلا چکے تھے
وہ تیرے راستے کا تھا ہی پتھر
وہ جس سے ہم بھی ٹھوکر کھا چکے تھے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment