Sunday, 9 January 2022

بستیاں ویران تھیں احباب غائب تھے مرے

 بستیاں ویران تھیں احباب غائب تھے مِرے

ہنس غائب تھے مِرے تالاب غائب تھے مرے

رہ گیا تھا زندگی سے نام کا رشتہ مرا

روح زخمی تھی مِری، اعصاب غائب تھے مرے

صرف پیڑوں تک نہ تھی محدود ویرانی مری

جھاڑیوں سے جھانکتے سرخاب غائب تھے مرے

خاک پر سرو و صنوبر کو ترستی تھی نظر

آسماں سے انجم و مہتاب غائب تھے مرے

کوئی پڑھتا بھی تو کیا مجھ آیت مسمار کو

حرف غائب تھے مِرے اعراب غائب تھے مرے

پھٹ گیا تھا شدت وحشت سے سینہ خاک کا

اور اس میں خوش بدن احباب غائب تھے مرے

میرے چہرے میں گڑے تھے وقت کے ناخن کبیر

آنکھ چھیدوں سے بھری تھی خواب غائب تھے مرے


کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment