Sunday, 9 January 2022

شگفت غنچہ و گل کے مزاج داں ہیں ہم

 شگفتِ غنچہ و گل کے مزاج داں ہیں ہم

حیاتِ نو کے لیے صبح کی اذاں ہیں ہم

جلو میں اپنے لیے کاروانِ عترتِ گل

مثال موجِ نسیمِ سحر رواں ہیں ہم

گِلہ ہی کیا جو زمانہ ہے ہم سے برگشتہ

زمین خوب سمجھتی ہے، آسماں ہیں ہم

کمال بے خبری ہے کہ آ کے منزل پر

ہر اک سے پوچھ رہے ہیں کہ اب کہاں ہیں ہم

خوشا کمال سرِ دار کہہ رہے ہیں اذان

زہے نصیب کہ اس دور کی زباں ہیں ہم

تِرے نثار کہ تُو نے ہمیں پکارا ہے

ہمیں پکارنے والے مگر کہاں ہیں ہم

غبارِ راہ سے کہہ دو ہمارے بعد اٹھے

غبارِ راہ یہ سن لے کہ کارواں ہیں ہم

ملی ہمیں سے چراغوں کو روشنی خالد

بڑا ستم ہے کہ پھر بھی دھواں دھواں ہیں ہم


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment