کسی پر جان دیتے تھے کسی پر ہم بھی مرتے تھے
محبت نام ہے جس کا کبھی یہ ہم بھی کرتے تھے
وہ جب بھی زلفِ برہم کو سجاتا تو چلا آتا
اداسی کو لپیٹے ہم بھی سارا دن سنورتے تھے
اُسے بھی مل گیا کوئی مجھے بھی مل ہی جائے گا
ستم یہ ہے کہ دونوں ہی وفا کی بات کرتے تھے
مجھے دریا میں اس نے پھینک کر اتنا کہا مجھ سے
سنا ہے ڈوبنے والے کناروں سے اُبھرتے تھے
وہ اکثر پوچھتا رہتا تمہارے لوٹنے کا دن
مِری بستئ دل کے کارواں جب بھی گزرتے تھے
مِرے گھر چاند رہتا تھا مِرے گھر بھی اُجالے تھے
ستارے آسماں کے سب مِری چھت پر اُترتے تھے
نہ جانے کیوں بدلتے ہیں وہ رستہ دیکھ کر ساجد
جو میرے راستے میں پورا پورا دن ٹھہرتے تھے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment