چراغِ آرزو بن کر سرِ دیوار جلتے ہیں
اُلجھ کر موجِ صرصر سے ہمیں ہر بار جلتے ہیں
اکیلے آتشِ غم میں نہ ہم لاچار جلتے ہیں
ہماری آہِ سوزاں سے کئی غمخوار جلتے ہیں
جماعت سے کرامت ہے نہ رکھنا بیر آپس میں
نشیمن سے اُٹھے شعلوں سے کچھ گلزار جلتے ہیں
مزین ہیں کہیں قالین سے زردار کی راہیں
کہیں پر آتشِ افلاس میں نادار جلتے ہیں
چھلک جائےنہ آنکھوں سے کہیں سوزِ دروں یارب
مِرے آنسو کی گرمی سے مِرے رخسار جلتے ہیں
اُجڑ کر بھی منور ہے کوئی ویران سی نگری
کسی کی یاد کے دیپک یہاں دو چار جلتے ہیں
سخن میں سوز کا ہونا ثبوتِ جرم ہے صادق
یہاں کے دل جلے سن کر تِرے اشعار جلتے ہیں
ولی صادق
No comments:
Post a Comment