Wednesday, 2 February 2022

یہ عہد کم نگہی اس میں قدر جوہر کیا

 یہ عہدِ کم نگہی اس میں قدر جوہر کیا

غزال دشت سگاں ہوں مِرا مقدر کیا

وفا کا نام لیا ہے تو اب یہ سوچتا ہوں

کہ میری سمت نہ آئے گا کوئی پتھر کیا

ضمیر زندہ و بیدار بن گیا ہوں میں

قلندری یہ نہیں ہے تو پھر قلندر کیا

جو خود ہی ساتھ چلا خود ہی ساتھ چھوڑ گیا

میں راستے سے اسے دیکھتا بھی مڑ کر کیا

تضاد فکر و عمل ہے منافقت کی دلیل

نہ ہو یہ عیب تو مومن سے کم ہے کافر کیا

میں ٹوٹ پھوٹ چکا ہوں جو وقت کے ہاتھوں

تو پھر یہ حشر سا برپا ہے میرے اندر کیا

قدم قدم پہ صلیبیں ہیں سولیاں ہیں تو پھر

مِری زمین سے اٹھے گا کوئی پیمبر کیا

انا کے خول سے باہر نکل سکا نہ کوئی

تھے اپنے آپ میں گم خضر کیا سکندر کیا

میں کیف و كم کا ازل آشنا ہوں خالد

مجھے خبر ہے کہ قطرہ ہے کیا سمندر کیا


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment