Wednesday, 2 February 2022

اے زمانے ہم تری تکذیب کر سکتے نہیں

 اے زمانے

ہم تِری تکذیب کر سکتے نہیں

تُو نے ہٹائے پردہ ہائے خوشنما

وہ جن کے پیچھے چھپ کے بیٹھی

زندگی پہچان بھی پاتے تو کیسے

اے زمانے

ہم تِری تکذیب کر سکتے نہیں

کانٹوں پہ تُو نے جب گھسیٹا تو

سُبک پھولوں میں تُلنے کی

کتابی خواہشوں سے جان چُھوٹی

اے زمانے! تُو نے ہم کو

تجربہ گاہِ نفی میں

لا کے پھینکا تو

تباہ ذات کی

اصلی گزر گاہوں کا نظارہ ملا

اے زمانے! ہم کو بتلایا ہے تُو نے

دوسروں کے پاؤں میں رہنے

پڑے رہنے سے

وہ جا آستانہ دل کا بن سکتی نہیں

من کی مُرادیں بر تو آتی ہیں

مگر اپنے ہی در کو کھٹکھٹانے سے

لگن کو آزمانے سے

زمانے ہم تِری تکذیب کر سکتے نہیں


پروین طاہر

No comments:

Post a Comment