Monday, 7 February 2022

چاک دامن کو ہم نے سیا ہی نہیں

 چاک دامن کو ہم نے سِیا ہی نہیں

زندگی تُو نے دھاگا دیا ہی نہیں

جو مِرے ساتھ شانہ بشانہ رہا

ایسے بچھڑا کہ پھر وہ ملا ہی نہیں

اس نے غم بھی تو مجھ سے ہیں واپس لیے

کوئی جینے کا اب آسرا ہی نہیں

وہ مِرے ساتھ ہو کر بھی میرا نہ تھا

پیار میں اس سے بڑھ کر سزا ہی نہیں

اپنے اندر ہی اندر ہیں الجھے رہے

ہمنواؤں سے مجھ کو گِلہ ہی نہیں

اس کو معلوم بھی ہے کہ مر جائیں گے

وہ بچھڑتے ہوئے سوچتا ہی نہیں

اس نے جاتے ہوئے مجھ سے اتنا کہا

اپنے مابین تو کچھ بچا ہی نہیں

عشق کو رمز نے اتنا آساں کیا

یوں لگا ہے کہ جیسے ہوا ہی نہیں

ہم نے دی ہیں صدائیں بہت سی مگر

ایک وہ ہے کہ کچھ بولتا ہی نہیں

جس کو پالا ہے دے دے کے اپنا لہو

آج میری طرف دیکھتا ہی نہیں


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment