Monday, 7 February 2022

کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے

 کسی اپنے سے ہوتی ہے نہ بیگانے سے ہوتی ہے

جو الفت ایک دیوانے کو دیوانے سے ہوتی ہے

سبو سے جام سے مینا سے پیمانے سے ہوتی ہے

محبت مے سے ہو کر سارے مے خانے سے ہوتی ہے

کوئی قصہ ہو، کوئی واقعہ، کوئی حکایت ہو

تسلی دل کو درد دل کے افسانے سے ہوتی ہے

مِری توبہ سے کہہ دو وہ بھی آ کر شوق سے سن لے

عجب آواز پیدا دل کے پیمانے سے ہوتی ہے

نظر سے چھپنے والے دل سے آخر کیوں نہیں چھپتے

یہ کیسی بے حجابی آئینہ خانے سے ہوتی ہے

بہار چند روزہ سے کوئی مانگے تو کیا مانگے

خزاں کو بھی ندامت ہاتھ پھیلانے سے ہوتی ہے

گھٹائیں غم کی چھٹ جاتی ہیں ان کے مسکرانے سے

کہ جیسے صبح پیدا رات ڈھل جانے سے ہوتی ہے

فگار احساس دل میں ہر طرف کانٹے ہی کانٹے ہیں

یہی تسکین گلشن میں بہار آنے سے ہوتی ہے


فگار اناوی

No comments:

Post a Comment