Monday, 7 February 2022

شام جب ڈھلتی ہے

 شوق


شام جب ڈھلتی ہے میں اپنے خرابے کی طرف

لوٹتا ہوں سرنگوں، بوجھل قدم

بارہ گھنٹوں کی مشقت اور تھکن

بڑھ کے لے لیتی ہے مجھ کو گود میں

اور سیل تیرگی میں ڈوب جاتی ہے 

امید و شوق کی اک اک کرن

رہ گزار آرزو پر چار سو اڑتی ہے دھول

اور اک آواز آتی ہے کہیں سے

جو کہ انجانی بھی پہچانی بھی ہے

زندگی کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں

اک مسلسل مرگ، اک سیل بلا، نیزوں کے بن

آہوں، کراہوں کے سوا

پھر اسی تاریک لمحے، پھر اسی نازک گھڑی

آرزو کی رہگزر پر چند نقش پا ابھرتے ہیں 

ستاروں کی طرح

لہلہاتا ہے کوئی آنچل بہاروں کی طرح

پھیل جاتی ہے کسی گیسو کی نکہت چار سُو

ایک فردوسی تبسم کی سنہری چاندنی

دھیمے دھیمے، زینہ زینہ

گنگناتی، رقص فرماتی ہوئی

بام غم سے خانۂ دل میں اتر کر

تھپتھپاتی ہے مجھے

گیت گاتی ہے، کبھی لوری سناتی ہے مجھے

اور پھر جب صبح کو 

خورشید عالم تاب کی پہلی کرن

گدگداتی ہے مجھے

کارگاہِ دہر میں واپس بلاتی ہے مجھے

آرزو و جستجو دل میں جواں پاتا ہوں میں

شوق کی مے کے نشے میں چُور ہو جاتا ہوں میں


افتخار اعظمی

No comments:

Post a Comment