سوکھتے تالاب کی آنکھوں میں پانی دیکھ کر
رو پڑیں کچھ مچھلیاں اپنی کہانی دیکھ کر
گھر میں ٹھہرا ہے ہمارے درد صدیوں سے حضور
ہے تذبذب میں ہماری میزبانی دیکھ کر
ٹھنڈ کی شدت جسے تاعمر ہی نہ چُھو سکی
کانپنے وہ بھی لگا ہے بٹیا سیانی دیکھ کر
یوں تو اپنا بھی چمن بے خوف تھا پر کیا کریں
گھس گئے کچھ ناگ گھر میں رات رانی دیکھ کر
خودکشی ہی ہے اگر جو آپ کا مقصد حضور
کیا کریں گے آپ دریا کی روانی دیکھ کر
یاد ہم کو آ گئی تب اپنی جوانی دوستوں
بھوک سے لڑتی ہوئی ان کی جوانی دیکھ کر
سیکھ لیا ہم نے سحر جی زخم سینے کا ہنر
عمر بھر روتے رہے ان کی نشانی دیکھ کر
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment