Monday, 7 February 2022

سوکھتے تالاب کی آنکھوں میں پانی دیکھ کر

سوکھتے تالاب کی آنکھوں میں پانی دیکھ کر

رو پڑیں کچھ مچھلیاں اپنی کہانی دیکھ کر

گھر میں ٹھہرا ہے ہمارے درد صدیوں سے حضور

ہے تذبذب میں ہماری میزبانی دیکھ کر

ٹھنڈ کی شدت جسے تاعمر ہی نہ چُھو سکی

کانپنے وہ بھی لگا ہے بٹیا سیانی دیکھ کر

یوں تو اپنا بھی چمن بے خوف تھا پر کیا کریں

گھس گئے کچھ ناگ گھر میں رات رانی دیکھ کر

خودکشی ہی ہے اگر جو آپ کا مقصد حضور

کیا کریں گے آپ دریا کی روانی دیکھ کر

یاد ہم کو آ گئی تب اپنی جوانی دوستوں

بھوک سے لڑتی ہوئی ان کی جوانی دیکھ کر

سیکھ لیا ہم نے سحر جی زخم سینے کا ہنر

عمر بھر روتے رہے ان کی نشانی دیکھ کر


عفراء بتول سحر

No comments:

Post a Comment