Monday, 7 February 2022

تیری آنکھوں نے جزیرے جو بنائے ہوئے ہیں

 تیری آنکھوں نے جزیرے جو بنائے ہوئے ہیں

ہم انہیں موجِ حوادث سے بچائے ہوئے ہیں

میرے ہی نام سے منسوب کہانی ہو گی

سارے کردار مِرے خوں میں نہائے ہوئے ہیں

یہ پرندے جو دمِ صبح کہیں نکلے ہیں

گھونسلے اپنے پروں پر ہی اٹھائے ہوئے ہیں

گردشِ وقت ٹھہر تجھ سے بھی نپٹیں گے ابھی

ابھی طوفان سے ہم آنکھ ملائے ہوئے ہیں

اس جہاں میں بھی جو رُسوا ہوں تو حیرت کیا ہے

ہم ہیں وہ لوگ جو جنت سے بھگائے ہوئے ہیں

سیکھ لو ہم سے زمیں نرم بنانے کا ہنر

ہم نے صحراؤں میں بھی پھول کھلائے ہوئے ہیں


وصی بستوی

No comments:

Post a Comment