Monday, 7 February 2022

تجھے اظہار کی جرأت نہیں ہے

 تجھے اظہار کی جرأت نہیں ہے

مجھے دُکھ ہے مگر حیرت نہیں ہے

لہو دے کر گُزارہ ہو رہا ہے

یہاں اتنی بھی اب غُربت نہیں ہے

مقابل آئینہ⌗ رکھا ہوا ہے

مُکرنے کی کوئی صورت نہیں ہے

نہ بدلے گی مِری سادہ مزاجی

یہ فطرت ہے کوئی عادت نہیں

زمیں ہو کر فلک کو چُھو لیا ہے 

ابھی دل میں کوئی حسرت نہیں ہے

بدلنے کا ارادہ کر لیا ہے

بدلنے کو مگر مہلت نہیں ہے

تجھے سوچا فقط سوچا کریں گے

تجھے ملنے کی اب صُورت نہیں ہے

ادھُورے رہ گئے سب کام انجم

کسی کی یاد سے فُرصت نہیں ہے

غنی الرحمٰن انجم

No comments:

Post a Comment