جب میں تیرے قریب ہوتا ہوں
جانے کتنا عجیب ہوتا ہوں ہوں
پڑا دیر سے تِرے در پر
دیکھیے کب مجیب ہوتا ہوں
پاس آنے سے ڈر رہے ہیں لوگ
چونکہ میں تو غریب ہوتا ہوں
راہِ الفت میں کون اپنائے
جانے کس کے نصیب ہوتا ہوں
اس نے بھی اب مجھے بتایا ہے
میں ہی اس کا حبیب ہوتا ہوں
جس نے چاہا اسے، میں اس کیلئے
یوں سمجھ لیں رقیب ہوتا ہوں
بات تھی تلخ، سو الجھ بیٹھا
ویسے تو میں ادیب ہوتا ہوں
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment