Friday, 8 April 2022

کوئی ذوق نظر ہونے لگا ہے

 کوئی ذوق نظر ہونے لگا ہے 

بہت آساں سفر ہونے لگا ہے 

کہاں سے لاؤ گے تم ماں کی ممتا 

اگر پردیس گھر ہونے لگا ہے 

سنبھالو اب تو اس بیمار کو تم 

فسانہ مختصر ہونے لگا ہے 

مِرے الفاظ ضو دینے لگے ہیں 

غزل کہنا ہنر ہونے لگا ہے 

وہ پہلے ٹس سے مس ہوتا نہیں تھا 

اگر سے اب مگر ہونے لگا ہے 

لبوں پر اب ہے اس کے مسکراہٹ 

دعاؤں کا اثر ہونے لگا ہے 

چلو جاذب! بچا کر اپنا دامن 

وہ رستہ رہگزر ہونے لگا ہے


سلیمان جاذب 

No comments:

Post a Comment