Friday, 8 April 2022

زمیں پر اس لیے ہی آ گری ہوں

 زمیں پر اس لیے ہی آ گری ہوں

ستاروں کی طرح ٹوٹی ہوئی ہوں

میں خود کو مارنے پر تُل چکی تھی

میں خود سے بھاگ کر زندہ بچی ہوں

دہائی دے رہا ہے میرا ملبہ

میں تیری آنکھ میں بکھری پڑی ہوں

مجھے تسخیر کرنا تھا زمانہ

میں اپنے ہی مقابل آ گئی ہوں

تیری صورت نگاہوں میں بسی ہے

میں دنیا میں تجھی کو دیکھتی ہوں


تہمینہ راؤ 

No comments:

Post a Comment