جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا
سماعت کا صدا سے فاصلہ کیا
خود اپنے عالم حیرت کو دیکھے
تِرا منہ تک رہا ہے آئینہ کیا
اندھیرا ہو گیا ہے شہر بھر میں
کوئی دل جلتے جلتے بجھ گیا کیا
لہو کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے
تِرے رنگِ حنا کا خوں بہا کیا
چراغوں کی صفیں سونی پڑی ہیں
ہمارے بعد محفل میں رہا کیا
دلوں میں بھی اتارو کوئی مہتاب
زمیں پر کھینچتے ہو دائرہ کیا
دِیا اپنا بجھا دو خود ہی شاعر
ہوائے نیم شب کا آسرا کیا
شاعر لکھنوی
No comments:
Post a Comment