Friday, 8 April 2022

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا

 جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا

سماعت کا صدا سے فاصلہ کیا

خود اپنے عالم حیرت کو دیکھے

تِرا منہ تک رہا ہے آئینہ کیا

اندھیرا ہو گیا ہے شہر بھر میں

کوئی دل جلتے جلتے بجھ گیا کیا

لہو کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے

تِرے رنگِ حنا کا خوں بہا کیا

چراغوں کی صفیں سونی پڑی ہیں

ہمارے بعد محفل میں رہا کیا

دلوں میں بھی اتارو کوئی مہتاب

زمیں پر کھینچتے ہو دائرہ کیا

دِیا اپنا بجھا دو خود ہی شاعر

ہوائے نیم شب کا آسرا کیا


شاعر لکھنوی

No comments:

Post a Comment