Friday, 8 April 2022

اندر کا ہر کرب چھپاتے پھرتے ہیں

 اندر کا ہر کرب چھپاتے پھرتے ہیں

ہم دیوانے لوگ ہنساتے پھرتے ہیں

چہرہ چہرہ ہر دل کی دیوار سے ہم

اپنے نام کے حرف مٹاتے پھرتے ہیں

شاخ سے ٹوٹ کے قریہ قریہ برگِ سبز

فصلِ بہار کا حال سناتے پھرتے ہیں

وہ جو دل کو دل کی رحل پہ رکھتے تھے

اب ہم ان کا کھوج لگاتے پھرتے ہیں

پہلے دھوپ کے لمس کو ہم نے برف کیا

اب ہم برف پہ پاؤں جلاتے پھرتے ہیں

اب تو اپنے سائے سے آئینہ لوگ

اپنا عیب ثواب چھپاتے پھرتے ہیں

احمد قحطِ سماعت سے دیواروں کو

تازہ غزل کے شعر سناتے پھرتے ہیں


سید آل احمد

No comments:

Post a Comment