جب کبھی وسوسے میں پڑتا ہے
آدمی مسئلے میں پڑتا ہے
جب تعلق بحال کرنا ہے
پھر کیوں شکوے گلے میں پڑتا ہے
ہوتا جاتا ہے فیصلہ دشوار
جب کوئی مشورے میں پڑتا ہے
جانا پڑتا ہے اس لیے بھی ہمیں
ان کا گھر راستے میں پڑتا ہے
جب بھی کھودیں اسے کسی کیلئے
پاؤں اپنا گڑھے میں پڑتا ہے
ہاتھ بدلے تو لازمی اس سے
فرق پھر ذائقے میں پڑتا ہے
عکس دکھتا ہے اس کا چہرے پر
داغ جب آئینے میں پڑتا ہے
شازیہ نورین
No comments:
Post a Comment