Monday, 14 September 2020

نہ ہار کی نہ کبھی جیت کی کتاب پڑھی

نہ ہار کی، نہ کبھی جیت کی کتاب پڑھی
ازل سے ہم نے فقط پِیت کی کتاب پڑھی
جو بے زبان کلی کی چٹک سے پھوٹا تھا
زبانِ لال سے اس گیت کی کتاب پڑھی
جو کھینچتی ہے سمندر کے پاس دریا کو
سفر میں ایک اسی رِیت کی کتاب پڑھی
پھر آج نوچ لیے نیند کی پری کے پر
پھر آج خواب میں عفریت کی کتاب پڑھی
کبھی بہ حسنِ ترنم کلام عازم کا
کبھی بگریہ اسی مِیت کی کتاب پڑھی

مظفر عازم

No comments:

Post a Comment