Wednesday, 16 September 2020

نوک نیزہ پہ وہ سر بول رہا ہے دیکھو

ایسا لگتا ہے کہ لب کھول رہا ہے دیکھو
نوکِ نیزہ پہ وہ سر بول رہا ہے دیکھو
لفظ وہ بھی ہے جو ادراکِ سماعت میں نہیں
میرے کانوں میں وہ رس گھول رہا ہے دیکھو
مجھ میں دم توڑ رہا ہے مِرے خوابوں کا چناب
کون آنکھوں میں گہررول رہا ہے دیکھو
جو تِرے ہجر کے موسم میں گزارا ہم نے
وقت وہ بھی بہت انمول رہا ہے دیکھو
ہے کسی دستِ ہوس کار میں تیر اور کمان
پھر پرندہ کوئی پَر تول رہا ہے دیکھو

شاہد کمال

No comments:

Post a Comment