طشت از بام کر دیئے جائیں
اور بدنام کر دیئے جائیں
اب متاعِ غمِ حیات کے ساتھ
دل بھی نیلام کر دیئے جائیں
سب چراغانِ آفریدۂ شب
اس سے پہلے ہوا اڑا لے جائے
خاک آرام کردیئے جائیں
عشق محرومِ لذتِ انجام
ہم بھی ناکام کر دیئے جائیں
شاہد کمال
No comments:
Post a Comment