Sunday, 13 September 2020

طشت از بام کر دیئے جائیں

طشت از بام کر دیئے جائیں
اور بدنام کر دیئے جائیں
اب متاعِ غمِ حیات کے ساتھ
دل بھی نیلام کر دیئے جائیں
سب چراغانِ آفریدۂ شب
سحر ہنگام کر دیئے جائیں
اس سے پہلے ہوا اڑا لے جائے
خاک آرام کردیئے جائیں
عشق محرومِ لذتِ انجام
ہم بھی ناکام کر دیئے جائیں

شاہد کمال

No comments:

Post a Comment