Sunday, 13 September 2020

خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیا

خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیا
کس قدر سخت مہم تھی کہ جو سر کر آیا
لاش ہوتا تو ابھر آتا کہ اک میں ہی کیا
سطح پر کوئی بھی پتھر نہ ابھر کر آیا
صرف دروازے تلک جا کے ہی لوٹ آیا ہوں
ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کا سفر کر آیا
چاند قدموں پہ پڑا مجھ کو بلاتا ہی رہا
میں ہی خود بام سے اپنے نہ اتر کر آیا
مجھ کو آنا ہی تھا اک روز حقیقت کے قریب
زندگی میں نہیں آیا تھا تو مر کر آیا

کیفی وجدانی

No comments:

Post a Comment