وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھا
میں اک چراغ کی لو سے لپٹنے والا تھا
بہت بکھیرا مجھے مرے مہربانوں نے
مِرا وجود ہی لیکن سمٹنے والا تھا
بچا لیا تِری خوشبو کے فرق نے ورنہ
اسی کو چومتا رہتا تھا وہ کہ اس کو بھی
عزیز تھا وہی بازو جو کٹنے والا تھا
مجھی کو راہ بدلنی تھی سو بدل ڈالی
کہیں پہاڑ بھی ٹھوکر سے ہٹنے والا تھا
تلاش جس کی تھی وہ حرف مل گیا ورنہ
میں ایک سادہ ورق اور الٹنے والا تھا
یہ کس کو تیر چلانے کا شوق جاگ اٹھا
وہ باز میری طرف ہی جھپٹنے والا تھا
کیفی وجدانی
No comments:
Post a Comment