Sunday, 13 September 2020

وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھا

وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھا
میں اک چراغ کی لو سے لپٹنے والا تھا
بہت بکھیرا مجھے مرے مہربانوں نے
مِرا وجود ہی لیکن سمٹنے والا تھا
بچا لیا تِری خوشبو کے فرق نے ورنہ
میں تیرے وہم میں تجھ سے لپٹنے والا تھا
اسی کو چومتا رہتا تھا وہ کہ اس کو بھی
عزیز تھا وہی بازو جو کٹنے والا تھا
مجھی کو راہ بدلنی تھی سو بدل ڈالی
کہیں پہاڑ بھی ٹھوکر سے ہٹنے والا تھا
تلاش جس کی تھی وہ حرف مل گیا ورنہ
میں ایک سادہ ورق اور الٹنے والا تھا
یہ کس کو تیر چلانے کا شوق جاگ اٹھا
وہ باز میری طرف ہی جھپٹنے والا تھا

کیفی وجدانی

No comments:

Post a Comment