شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب
کبھی تو دیکھ مِرے ہمنشین کی جانب
میں اپنا زخم دکھاؤں تجھے کہ میں دیکھوں
لہو میں ڈوبی ہوئی آستین کی جانب
ان آسمان مزاجوں سے ہے بلا کا گریز
پلٹ رہا ہوں میں اپنی زمین کی جانب
کچھ اپنے حرف کے موتی کچھ اپنے لفظ کے پھول
اچھال آیا ہوں اس نازنین کی جانب
کسی کی چشم تعاقب کی زد میں رہتا ہوں
میں دیکھتا ہوں جب اس مہ جبین کی جانب
خود اپنے ہونے پہ مجھ کو یقین ہے لیکن
میں دیکھتا ہوں گماں سے یقین کی جانب
مصافِ جاں میں کھڑا ہوں مِرے عدو سے کہو
وہ دیکھتا ہے یسار و یمین کی جانب
کسی نے تھام لی بڑھ کر مِرے فرس کی رکاب
کسی نے ہاتھ بڑھایا تھا زین کی جانب
خود اپنے فن کا یہ شاہد کمال ہے نقاد
وہ دیکھتا ہی نہیں ناقدین کی جانب
شاہد کمال
No comments:
Post a Comment